ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آسام: اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے خلاف جمعیۃ کی عرضی، حکومت سے سپریم کورٹ کا جواب طلب

آسام: اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے خلاف جمعیۃ کی عرضی، حکومت سے سپریم کورٹ کا جواب طلب

Fri, 17 Jul 2020 21:46:08    S.O. News Service

نئی دہلی،17؍جولائی (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) صوبہ آسام میں اقلیتوں کے سیاسی و سماجی حقوق کو خطرے میں ڈالنے والے صدارتی حکم نامہ برائے جدید حد بندی اور اس سے متعلق وزارت قانون کے ذریعہ مقرر کردہ کمیشن کی کارروائی کو جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں جاری ریلیز میں دی گئی ہے۔

ریلیز کے مطابق اس سلسلے میں چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس اے ایس پوبنا کی بنچ کے سامنے جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی نے ایک عرضی دائر کرکے ریاست آسام میں اسمبلی حلقوں کی جدید حد بندی کو غیر قانونی، موجودہ حالات کے تقاضوں کے مغایر اور جلد بازی پر مبنی عمل قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے، عدالت میں حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ بھی موجود تھے جب کہ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے شکیل احمد سید، پرویز دباس، عظمی جمیل حسین، دانش احمد سید، شیخ نورالحسن اور راکیش کمار پیش ہوئے۔

جمعیۃ علماء ہند جو آسام میں قضیہ شہریت کے مسئلے میں مختلف عدالتوں میں مقدمہ لڑ رہی ہے اور وہاں بہت سارے مظلوم انسانوں کی داد رسی کرتی ہے، اس نے سرکار کے منشا پر سوال اٹھایا ہے کہ اسمبلی حلقوں کی حد بندی آبادی کے سبھی طبقات کو برابر حصہ دینے کے لیے کی جاتی ہے تو پھر اس وقت یہ عمل کس بنیاد پر انجام دیا جا رہا ہے؟ ریاست میں این آرسی کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے اور نہ اس بنیاد پر آبادی کا رجسٹر فائنل ہوا ہے اور نہ حال میں کوئی مردم شماری ہوئی ہے، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ حد بندی کا موجودہ عمل 2001 کی مردم شماری کو بنیاد بنا کر کیا جا رہا ہے جبکہ بیس سالوں میں ہر اسمبلی حلقہ کا جغرافیائی اور ڈیموگرافک نقشہ کافی بدل چکا ہے۔

جمعیۃ علما ء ہند نے عرضی میں یہ سوال بھی ا ٹھایا ہے کہ جب سرکار نے خود آسام کو 28 اگست 2019 سے ”ڈسٹربڈ ایریا“ قرار دے رکھا ہے تو اسے اس طرح کے متنازع عمل کو شروع کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ جس بنیاد پر آسام میں 2008ء میں اسمبلیوں کی حد بندی کا عمل موقوف کردیا گیا تھا، حالات آج بھی جوں کی توں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ یہ کسی سے مخفی نہیں ہے کہ ریاست میں 19 لاکھ افراد کی شہریت ختم ہونے اور شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کی وجہ سے ا من و امان کی صورت حال ٹھیک نہیں ہے۔

جمعیۃ علماء ہند نے اپنی عرضی میں 27 جنوری 2020 کو نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ اور آل بوڈو اسٹوڈینٹ یونین کے ساتھ ’بی ٹی آر معاہدہ‘ کا بھی حوالہ دیا ہے جس کے تحت و ہ گاؤں جوبوڈولینڈ سے باہر ہیں لیکن وہاں بوڈو قبیلہ کی اکثریت ہے، ان کو بھی بوڈو لینڈ میں شامل کیا جائے گا، سوال یہ ہے کہ اب تک اس معاہدہ پر عمل نہیں ہوا ہے اور نہ اس کے تحت کسی علاقے کی حد بندی ہوئی ہے تو ایسی صورت میں سرکار کس طرح سے جدید حد بندی کے عمل کو نافذ کرپائے گی۔ ظاہر سی بات ہے کہ سرکار کا منشا درست نہیں ہے اور وہ اور اس کی پارٹی مسلسل آسام میں مسلمانوں کی مفروضہ بڑھتی آبادی کو نشانہ بناتی رہی ہے اور اب جب کہ این آرسی میں یہ سب غلط ثابت ہو ا تو اس نے پینترا بدلا ہے۔


Share: